Showing posts with label Bang e Dara. Show all posts
Showing posts with label Bang e Dara. Show all posts

Monday, December 17, 2018

Parinday Ki Faryad

Parinday Ki Faryad (Bang-e-Dra-012)

آتا ہے ياد مجھ کو گزرا ہوا زمانا
وہ باغ کی بہاريں وہ سب کا چہچہانا

آزادياں کہاں وہ اب اپنے گھونسلے کی
اپنی خوشی سے آنا اپنی خوشی سے جانا

لگتی ہے چوٹ دل پر ، آتا ہے ياد جس دم
شبنم کے آنسوئوں پر کليوں کا مسکرانا

وہ پياری پياری صورت ، وہ کامنی سی مورت
آباد جس کے دم سے تھا ميرا آشيانا

آتی نہيں صدائيں اس کی مرے قفس ميں
ہوتی مری رہائی اے کاش ميرے بس ميں

کيا بد نصيب ہوں ميں گھر کو ترس رہا ہوں
ساتھی تو ہيں وطن ميں ، ميں قيد ميں پڑا ہوں

آئی بہار کلياں پھولوں کی ہنس رہی ہيں
ميں اس اندھيرے گھر ميں قسمت کو رو رہا ہوں

اس قيد کا الہی! دکھڑا کسے سنائوں
ڈر ہے يہيں قفسں ميں ميں غم سے مر نہ جاؤں

جب سے چمن چھٹا ہے ، يہ حال ہو گيا ہے
دل غم کو کھا رہا ہے ، غم دل کو کھا رہا ہے

گانا اسے سمجھ کر خوش ہوں نہ سننے والے
دکھے ہوئے دلوں کی فرياد يہ صدا ہے

آزاد مجھ کو کر دے ، او قيد کرنے والے
ميں بے زباں ہوں قيدی ، تو چھوڑ کر دعا لے

Parinday Ki Faryad-Bang-e-Dra-012

Wednesday, December 5, 2018

Lab Pe Aati Hai Dua

Lab Pe Aati Hai Dua Banke Tamanna Meri

Lab Pe Aati Hai Dua

Bache Ki Dua (Makhooz) Lab Pe Aati Hai Dua 

لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا ميری
زندگی شمع کی صورت ہو خدايا ميری
دُور دنيا کا مرے دم سے اندھيرا ہو جائے
ہر جگہ ميرے چمکنے سے اُجالا ہو جائے

ہو مرے دم سے يونہی ميرے وطن کی زينت
جس طرح پھول سے ہوتی ہے چمن کی زينت

زندگی ہو مری پروانے کی صورت يا رب
علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت يا رب
ہو مرا کام غريبوں کی حمايت کرنا
دردمندوں سے ضعيفوں سے محبت کرنا

مرے اللہ! برائی سے بچانا مُجھ کو
نيک جو راہ ہو اس رہ پہ چلانا مجھ کو

Alfaz Maani and Enhlish Translation 





Tuesday, November 27, 2018

Masjid To Bana Di Shab Bhar Mein

Masjid To Bana Di Shab Bhar Mein 

Masjid To Bana Di Shab Bhar Mein

مسجد تو بنا دي شب بھر ميں ايماں کي حرارت والوں نے
من اپنا پرانا پاپي ہے، برسوں ميں نمازي بن نہ سکا

کيا خوب امير فيصل کو سنوسي نے پيغام ديا
تو نام و نسب کا حجازي ہے پر دل کا حجازي بن نہ سکا

تر آنکھيں تو ہو جاتي ہيں، پر کيا لذت اس رونے ميں
جب خون جگر کي آميزش سے اشک پيازي بن نہ سکا

اقبال بڑا اپديشک ہے من باتوں ميں موہ ليتا ہے
گفتارکا يہ غازي تو بنا ،کردار کا غازي بن نہ سکا